سعودی عرب نے خواتین کے روزگار میں کیسے اضافہ کیا؟ ، خصوصی تحریر

Spread the love

سعودی عرب نے گذشتہ سے پیوستہ ہفتے خواتین پر عاید سفری پابندیوں میں نرمی کردی تھی۔اس اقدام اور خواتین کو کار چلانے کی اجازت دینے سمیت سعودی عرب میں خواتین کو شخصی حقوق دینے کے لیے وسیع تر اصلاحات کا سلسلہ جاری ہے اور ایسی خبریں میڈیا میں شہ سرخی کی صورت میں شائع اور نشر ہوتی ہیں۔ سعودی عرب ملکی افرادی قوت میں خواتین کی شمولیت کے لیے دورس نتائج کی حامل وسیع تر اصلاحات پر عمل پیرا ہے۔ اگر خواتین افرادی قوت سے متعلق تدریسی مواد پر ایک نظر ڈالی جائے تو اس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ سعودی حکومت ایک باقاعدہ طے شدہ طریق کار کے تحت اصلاحات کر رہی ہے۔

ایک مقبول عام عقیدے کے برعکس سعودی عرب نے حالیہ اصلاحات سے قبل بعض ایسی پالیسیاں اختیار کی تھیں جن سے افرادی قوت میں خواتین کی شمولیت کو فروغ ملا ہے۔ سعودی عرب میں سرکاری شعبے میں اوقات کار قدرے مختصر ہیں اور یہ اسکول کے اوقات کے مطابق ہیں۔اس وجہ سے یہ خواتین اور بچّوں کے لیے بہت مناسب ہیں۔ سعودی عرب میں بچے کی پیدائش کے وقت سرکاری شعبے میں برسرروزگار ماؤں کو بین الاقوامی معیار کے مقابلے میں تھوڑی کم چھٹیاں دی جاتی ہیں اور وہ مکمل تن خواہ پر چھتیس روز تک چھٹی کرسکتی ہیں۔سالانہ پندرہ سرکاری تعطیلات ہوتی ہیں۔

مزید برآں سعودی شہری اپنے بچّوں کی دیکھ بھال اور دوسرے گھریلو کاموں کے لیے غیر ملکی تارکین وطن کو بھی چار سو ریال ماہانہ تک گھریلو ملازم یا مددگار کے طور پر رکھ سکتے ہیں۔اس کا اگر متعدد مغربی معیشتوں سے موازنہ کیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ وہاں ایک جوڑے کو اپنے بچّوں کی دیکھ بھال پر اپنی آمدن کا تیس فی صد صرف کرنا پڑتا ہے۔

ان پالیسیوں کے علی الرغم ،قانونی ، اقتصادی اور ثقافتی رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے اقدامات سے بھی خواتین کی افرادی قوت کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ 2017ء میں ان کی یہ شرح 18 فی صد کے لگ بھگ تھی۔

ماضی میں سعودی خواتین کو گھر سے باہر کام یا ملازمت کے لیے اپنے مرد سرپرستوں کی اجازت لینا پڑتی تھی، انھیں ڈرائیونگ کی اجازت نہیں تھی اورانھیں اہم عہدوں یا قیادت کی سطح پر بھی فائز نہیں کیا جاتا تھا لیکن اب انھیں یہ سب کام کرنے کی اجازت مل چکی ہے مگر اس کے باوجود ان کے کام کرنے میں ایک رکاوٹ حائل ہے اور وہ یہ کہ معاشرتی سطح پر خواتین کی افرادی قوت میں شمولیت کو اچھا نہیں سمجھا جاتا ہے اور یہ ایک طرح سے ان کے سماجی سطح پر کام کی عدم منظوری ہے۔

سعودی حکومت نے گذشتہ پانچ سال کے دوران میں خواتین کو افرادی قوت کا حصہ بنانے کے لیے نمایاں اور دوررس نتائج کے حامل اقدامات کیے ہیں۔اس کی اصلاحات کا تنوع اور گہرائی بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ ماضی میں سعودی عرب میں خواتین کی شرح روزگار سب سے کم تھی۔اب سعودی حکومت اس مظہر کو تبدیل کرنے کے لیے منظم اور منضبط انداز میں اصلاحات پر عمل پیرا ہے۔

مثال کے طور پر2018ء کے اوائل میں سعودی حکومت نے مملکت میں بچوں کی نگہداشت کے لیے 233 نئے مراکز کے قیام کا اعلان کیا تھا۔دراصل یہ مراکز ان ماؤں کو بچوں کی دیکھ بھال کے سلسلے میں سہولت فراہم کرنے کے لیے قائم کیے جارہے تھے جو اپنے گھروں میں بچوں کے دادا دادی یا گھریلوملازمین کی نگہداشت سے مطمئن نہیں تھیں۔ سعودی حکومت ملازمت کرنے والی خواتین کو بچوں کی نگہداشت کے ضمن میں زرتلافی کی مد میں ہر ماہ 200 ڈالر سے زیادہ رقوم بھی دیتی ہے۔سعودی عرب میں نافذالعمل لیبر قوانین جز وقتی کام کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور ایسے ملازمین کو سوشل سکیورٹی، زاید وقت صرف کرنے پر اضافی تن خواہ، سالانہ چھٹیاں اور بیماری کی صورت میں چھٹیاں دی جاتی ہیں۔

خواتین کی ڈرائیونگ پر عاید پابندی کے خاتمے سے ان کے کام کرنے کی راہ میں حائل ایک اہم رکاوٹ دور ہو چکی ہے۔ جیسا کہ سطور بالا میں ذکر کیا گیا ہے کہ خواتین پر عاید سفری پابندیوں کا خاتمہ مردوں کی سرپرستی کے نظام کے خاتمے کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔

گذشتہ پانچ سال کے دوران میں لیبر قوانین اور سرپرستی کے نظام میں تبدیلیوں نے خواتین کو درکار مردوں کی اجازت کی قانونی ضرورت کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ اب وہ ذاتی طور پر افرادی قوت میں شمولیت یا عدم شمولیت کا فیصلہ کرسکتی ہیں۔

حکومت ’سعودیانے‘ کے تحت ملازمتوں کے کوٹے کا بھی اطلاق کررہی ہے۔اس کے تحت کاروباری ادارے اپنے اپنے کوٹے کے مطابق سعودی شہریوں کو اپنے ہاں ملازمتیں دینے کے پابند ہیں۔ نیز مختلف شعبوں میں اب سعودی شہریوں ہی کوغیرملکی تارکین وطن کی جگہ بھرتی کیا جارہا ہے۔ ٹیلی مواصلات ایسے بڑے شعبوں میں بھی غیرملکی تارکِ وطن ملازمین کو دیس نکالا دیا جا رہا ہے۔ اس سے سعودی خواتین کے لیے روزگار کے مزید مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ نیز گھریلو ملازمین پر زیادہ قدغنیں عاید نہیں کی جارہی ہیں۔اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت کو ملازمت پیشہ خواتین کے مسائل کا احساس ہے۔

بعض عہدوں پر صرف مردوں کے تقررکی پابندی بھی ختم کردی گئی ہے۔ مثال کے طور سعودی وزارت داخلہ میں پہلے صرف مردوں کو مختلف عہدوں پر فائز کیا جاتا تھا۔اب ایسا نہیں ہے اور قانونی اصلاحات کے تحت اب خواتین کو بھی قیادت کی سطح پر عہدوں پر مقرر کیا جا سکتا ہے۔اس کی سب سے نمایاں مثال شہزادی ریما بنت بندر آل سعود کا واشنگٹن میں سعودی سفیر کی حیثیت سے تقرر ہے۔نیزسعودیانے کی پالیسی میں حال ہی میں مثبت تمیزی عناصر کی شمولیت کے لیے ترمیم کی گئی ہے۔اس کے تحت نجی کمپنیاں اگر ایک شفٹ میں دو خواتین کے تقرر میں ناکام رہتی ہیں تو ان پر چار ہزار ڈالر تک جرمانہ عاید کیا جاسکے گا۔

حکومت معاشرتی سطح پر رویوں میں تبدیلی کے لیے بھی کوشاں ہے۔ گذشتہ سال سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے خود کہا تھاکہ اب سعودی خواتین کو روایتی سیاہ عبایا یا سرپوش اوڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے علاوہ اس عرصے کے دوران میں مذہبی پولیس کے اختیارات میں بھی نمایاں کمی گئی ہے۔ نیز خواتین کو جنسی ہراسیت کا شکار ہونے سے بچانے کےلیے قوانین کا نفاذ کیا گیا ہے۔ان کے ذریعے خواتین کا تحفظ کیا جارہا ہے۔

حکومت کے اس ضمن میں بظاہرعاجلانہ اقدامات کی کیسے وضاحت کی جاسکتی ہے؟ خواتین کے حقوق سے متعلق سیاسی تحفظات سے ماورا بعض اہم معاشی عوامل بھی ان اصلاحات میں کارفرما ہیں۔

اوّل یہ کہ خواتین بھی مردوں کی طرح خداداد صلاحیتوں اور اہلیتوں سے مالا مال ہوتی ہیں۔اگر ان کی صلاحیتوں سے فائدہ نہیں اٹھایا جاتا تو اس سے کسی کا اپنا ہی نقصان ہوسکتا ہے۔

دوم، جب خواتین کوئی ماہانہ آمدن کماتی ہیں،اس سے گھریلو آمدن کے ساتھ مصارف میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور یوں معیشت پھلتی پھولتی ہے، معاشی شرح نمو میں اضافہ ہوتا ہے۔اگر یہی رقم کسی تارکِ وطن مزدور کے ہاتھ میں جائے گی تو وہ اس کی اپنے آبائی وطن میں ترسیل کردے گا اور اس طرح یہ ایک قسم کا دُہرا نقصان ہوگا۔ یعنی رقم بیرون ملک چلی گئی،وہیں کام آئی اور اس کی معیشت کا حصہ بنی۔

سوم، خواتین کے برسرروزگار ہونے سے آبادی کی شرح نمو میں براہ راست کمی واقع ہوتی ہے۔ اگر آبادی کی شرح نمو زیادہ ہوتی ہے تو اس سے قومی خزانے پربوجھ پڑتا ہے،روزگار کے زیادہ مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔اس وقت سعودی عرب کو یہ دونوں چیلنجز درپیش ہیں۔اس لیے حکومت اس مسئلے کے تریاق کے طور پر ’’زیادہ سے زیادہ خواتین کی افرادی قوت میں شمولیت کی خواہاں ہے‘‘۔

سعودی حکومت کی خواتین کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے اصلاحات کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہوئے ہیں۔اس کا اندازہ عالمی بنک کے فراہم کردہ اعداد وشمار سے کیا جاسکتا ہے: سعودی عرب میں 2017ء میں خواتین کے روزگار کی شرح اٹھارہ فی صد تھی اور یہ شرح ایک سال کے بعد 2018ء میں تیئیس فی صد ہوگئی تھی لیکن یہ شرح تنظیم برائے اقتصادی تعاون اور ترقی (او ای سی ڈی) کی اوسط شرح انسٹھ فی صد سے کہیں کم ہے۔ نیز خواتین کو ملازمتوں کے حصول کے ضمن میں مختلف رکاوٹوں کا بھی سامنا ہے۔آیندہ برسوں کے دوران میں خواتین کی فیصلہ سازی کے عمل میں شمولیت مزید ترقی کے لیے بڑی اہمیت کی حامل ہوگی۔

عمر العبیدلی

اپنا تبصرہ بھیجیں