سپریم کورٹ رام مندر کیس سنتی ہے، کشمیر کیس نہیں، بھارتی طالبہ نے مودی سرکار کو آئینہ دکھا دیا

Spread the love

مسلمانوں اور کشمیریوں پر مظالم کے خلاف بھارت میں مودی سرکار کے خلاف آوازیں اٹھنے لگیں، بھارتی طالبہ نے کشمیریوں کے ساتھ امتیازی سلوک پر مودی سرکار کو آئینہ دکھا دیا۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی طالبہ نے مسلمانوں پر ہجوم کے تشدد اور مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارتی عدلیہ کے دہرے معیار پر انتہا پسند بھارتی میڈیا اور حکومت کو آئینہ دکھا دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق غصے سے بھری طالبہ نے مودی سرکار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا بھارت سیکولر ملک نہیں، مسلمانوں کو مارا جاتا ہے۔

طالبہ نے عدلیہ کے دہرے معیار پر کہا کہ سپریم کورٹ رام مندر کیس تو سنتی ہے، لیکن کشمیر”کیس” نہیں، طالبہ نے سوال کیا کہ ہندوؤں پر ظلم ہوا تو کوئی رپورٹ دکھا دیں۔

یاد رہے رواں ماہ بھارتی صحافی رویش کمار نے بھی مودی سرکار اور بھارتی میڈیا کے اندھے تعصب کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا، صحافی نے کہا بھارت کی موجودہ حکومت عوام میں انتشار پھیلا رہی ہے، اور بھارتی میڈیا پڑوسی ملک میں بسنے والے لوگوں کو ہمیشہ سے ایک دشمن کے روپ میں دیکھنا سکھا رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ بھارتی میڈیا کا معیار یہ ہے کہ رکن اسمبلی کے خلاف کچھ ہوگا تو میڈیا بالکل خاموش ہو جائے گا اس کے برعکس کسی مسلمان کی بکری کا بھی کیس ہوگا تو گھنٹوں گھنٹوں میڈیا پر اس کی بحث کی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں